وزیر اعظم عمران خان نے آج رات بعد نماز عشاء کارکنوں کے ساتھ ریڈ زون کے باہر اسلام آباد کے بلیو ایریا میں احتجاج کا اعلان کر دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے غداری ہورہی ہے جس کے خلاف آج اسلام آباد ریڈزون کے باہر پرامن احتجاج کرینگے، ریڈزون کے باہر ضمیر فروشوں کیخلاف پرامن احتجاج ہوگا اور میں نماز عشا کے بعد خود بھی اس احتجاج میں شریک ہونگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ براہ راست ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے کہ لوگوں کی قیمت لگا کر ان کے ضمیر خریدے جائیں اور پھر انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح بند کر دیا جائے ، انہیں اس لئے خریدا جائے کہ دوسری حکومت بنائی جا سکے ، اوپر سے آپ بیرون ملک کی سازش کا حصہ بن جائیں ، ہم اس ملکی غداری کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے ۔ آج بعد نماز عشاء اپنے کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد میں احتجاج کروں گا۔
عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنماؤں پر 90 فیصد کیسز ان دونوں کے اپنے ہی دور میں بنائے گئے ہیں، انھوں نے ساری زندگی امپائر کو ملا کر فکس میچز کھیلے ہیں، یہ الیکشن کمیشن میں اپنے لوگ لگانا چاہتے ہیں، مجھے خبر ملی ہے لاہور کے ہوٹل میں لوگوں کو خرید کر لے جایا جارہا ہے، اس خرید وفروخت کیخلاف لوگوں نے کہا ہے کہ لاہور میں ہوٹل کے باہر احتجاج کرینگے۔
ایم پی ایز کی قیمت لگاتے ہیں، یہ چھانگا مانگا کی ہی سیاست ہے لوگوں کی نظر میں جمہوریت ختم ہوگئی ہے، ایم پی ایز کو خرید کر حکومت بنانا جمہوریت نہیں ہے، جو لوگ اچکن سلوا کر بیٹھے تھے وہ لوگوں کو خرید کر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چھانگا مانگا کی اسی سیاست کی وجہ سے ہماری جمہوریت عوام کی نظر میں وقعت کھوچکی ہے، ملک کی اخلاقیات ،جمہوریت ،انصاف کی رکھوالی قوم کرتی ہے، اچھائی اور حق کیساتھ کھڑے ہونے کا حکم قرآن میں اللہ نے ہمیں دیا، جب قوم برائی دیکھ کر چپ کرکے بیٹھ جاتی ہے تو اپنا نقصان کرتی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ 5ہفتے پہلے تحریک عدم اعتماد کا ڈراما شروع ہوا، یہ بیرونی سازش بھی ہے جس کی وجہ سے اسپیکر نے رولنگ دی کیونکہ سازش کےتحت کہا گیا کہ وزیراعظم کو نہیں ہٹایا تو تعلقات خراب ہونگے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس سندھ کی حکومت تھی اور انکے پاس باہر سے بھی پیسہ آیا، میرے پاس تو 4 حکومتیں تھیں چاہتا تو ان سے زیادہ پیسہ لگا سکتا تھا لیکن ملک کیساتھ پیسے کی سیاست کا تماشا کرنے پر میرا ضمیر ہی نہیں مانتا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ کسی ملک کے عوام کیخلاف کوئی نہیں ہوتا بلکہ پالیسی کیخلاف ہوتاہے، میں امریکا مخالف نہیں بلکہ پالیسی کا مخالف ہوں، جب ایک ملک دوسرے ملک کو حکم دے جنگ لڑے، ڈومور بھی کرے، ہم سب کچھ کریں پھر بھی ہمارے ملک کی تعریف نہیں ہوتی۔ کسی کے آگے جھکنے اور غلامی سے بہتر موت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کی صورتحال کوسامنے رکھتےہوئےفیصلہ کیاعوام سے بات چیت کروں، ہم تو ابھی پاور میں آئے یہ تیس سال سے حکومت کر رہے ہیں، شہباز شریف بتائیں کہ تیس سال میں عوام کو بھکاری کس نے بنایا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کے پی بلدیاتی الیکشن کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا ہے، کے پی سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا جنازہ نکل گیا ہے ہزارہ تو ن لیگ کا گڑھ ہوتا تھا،ان کا جنازہ نکل گیا۔
وزیر اعظم کا اسلام آباد میں کارکنوں کے ساتھ افطاری کی بعد احتجاج کا اعلان
4
اپریل 2022
