آج سپریم کورٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ازخودنوٹس پر سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل فاروق نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کون سے آئینی سوالات پر فل کورٹ کی ضرورت ہے،اگر آپ کو کسی پر عدم اعتماد ہے تو بتا دیں ہم اٹھ جاتے ہیں، ایک فل کورٹ کی وجہ سے دس ہزار کیسز کا بیک لاگ ہوا، فل کورٹ کی 63سماعتیں ہوئیں ،عدالت کو تعین کرنے دیں کہ کونسا سوال کتنا اہم ہے،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام آباد – (اے پی پی): پیر کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مزکورہ از خود نوٹس پر سماعت کی۔ دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی کہ ازخود نوٹس کیس کو صدارتی ریفرنس کے ساتھ سنا جائے۔
بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ پارٹی چیئر مین کی ہدایات پر عدالت کو بتارہا ہوں کہ ہم نے عام انتخابات کی طرف جانا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی مطالبہ تھا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے جو کچھ اسمبلی میں ہوا ہم نے اس کے قانونی پہلو کو دیکھنا ہے، ہم درخواست گزاروں کو پہلے سننا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کی کونسل اگر کوئی سٹیٹمنٹ دینا چاہتی ہے تو دے دیں۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا ،عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے، عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی، تمام اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ معاملہ کی سماعت کے لئے فل کورٹ بینچ بنایا جائے،جب بھی معاملہ آئین کی تشریح کا ہوتا ہے تو فل کورٹ بینچ اس پر سماعت کرتا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل فاروق نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کون سے آئینی سوالات پر فل کورٹ کی ضرورت ہے،اگر آپ کو کسی پر عدم اعتماد ہے تو بتا دیں ہم اٹھ جاتے ہیں، ایک فل کورٹ کی وجہ سے دس ہزار کیسز کا بیک لاگ ہوا، فل کورٹ کی 63سماعتیں ہوئیں ،عدالت کو تعین کرنے دیں کہ کونسا سوال کتنا اہم ہے،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں۔
اس موقع پر وکیل فاروق ایچ نائیک نے واضح کیا کہ انہیں بینچ کے کسی ممبر پر کوئی اعتراض نہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی،اسپیکر 14 دن میں اجلاس بلانے کے پابند تھے،اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلایا،عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ اسپیکر ہاؤس میں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے،ہاؤس میں قرار داد پیش ہونے کے بعد ہاؤس منظوری دیتا ہے،تین اپریل 2022 ء تحریک عدم ا عتماد پر ووٹنگ کے لیے مقرر تھی لیکن اجلاس شروع ہوا تو تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سے سوال کیا اورفواد چوہدری کے نکتہ اعتراض پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد بحث کیلئے مقرر نہیں ہوئی۔ جس کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی،31 مارچ کو عدم اعتماد پر بحث ہونی تھی لیکن اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا،27 مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا،عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن غیر ملکی سازش کا حصہ ہے،31 مارچ کو نیشنل سیکورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے قرار داد کی اجازت دیکر معاملہ پر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کردیا، پوائنٹ آف آرڈر پر بحث بھی ہو سکتی تھی،اسپیکر موجود نہیں تھے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے،یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے۔
اس دوران جسٹس منیب اختر نے استفسارکیا کہ کیا رولنگ واپس ہوسکتی ہے،رولنگ کو آئینی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے یہ ایک پیچیدہ ایشو ہے،ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسپیکر کا اختیار ڈپٹی اسپیکر استعمال کرسکتا ہے۔ اس دوران فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،ڈپٹی ا سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام اسپیکر کیلئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،سات دن میں ووٹنگ ہونا تھی، 4 اپریل آخری دن بنتا تھا،تین اپریل کو ووٹنگ کیلئے اجلاس بلایا گیا،3 اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی،دوسرا کوئی ایجنڈا ایوان کی کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے،تحریک عدم اعتماد تین منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اس کی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،تحریک عدم اعتماد کے قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کیلئے مقرر ہونے سے پہلے ہوسکتا ہے،ڈپٹی اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دینے کیلئے بااختیار نہیں تھے،اسپیکر کسی صورت تحریک عدم اعتماد کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دے سکتا،آرٹیکل 5 کے سہارے بھی تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی، تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،تحریک عدم اعتماد پر رولنگ آئین کیخلاف ہے،تحریک عدم اعتماد 20 فیصد سے کم ارکان کی جانب سے پیش کرنے کی منظوری دینے پر ہی مسترد ہو سکتی ہے،پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی،رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،صدر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے نگران حکومت کیلئے نام مانگ رہے ہیں،تین دن میں آئین کے مطابق نام دینا لازمی ہیں،تمام نظریں عدالت پر ہیں آج ہی سماعت مکمل کریں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ آج دو گھنٹے آپ کو سنا ہے، آپ تمام وکلاء دو گھنٹے میں دلائل مکمل کر سکتے تھے،ہوا میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، سب کو سن کر فیصلہ ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اس دوران ریمارکس دئیے کہ اہم آئینی نکتہ ہے جس پر فیصلے کے دور رس نتائج ہونگے،دوسرے فریق کو سننا بھی ضروری ہے تاکہ فیصلہ ہو جائے،آج ہی سن کر فیصلہ دینا ممکن نہیں۔ دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا گیا ۔ جس پر فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ اجلاس میں تاخیر کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں ۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ا سپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں،وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں پیش ہونے کی اجازت سے سات دن کی معیاد شروع ہو جاتی ہے،اگر ممبران کی اکثریت کہتی ہے کہ تحریک پیش نہ ہو تو کیا تحریک کی وقعت نہیں ہو گی،اگر اکثریت 100 ممبران کی ہے اور 50 کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہو تو کیا تحریک پیش ہو گی،اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے،اسپیکر نے کس رول کے تحت رولنگ جاری کی ہے،
فواد چوہدری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے،رول 28 کے تحت سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،سپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے،کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے،ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے، میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیاحزب اختلاف کے198 ارکان میں پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے،رولنگ قواعد کے خلاف تھی تو بھی کیا اسے آئینی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 95 میں بحث نہیں صرف ووٹنگ کا ذکر ہے، عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے،تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ووٹنگ سے ہی ہونا ہوتا ہے۔ دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 69کے تحت اسپیکر کی رولنگ کو تحفظ حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اختیار تو اسپیکر کا ہے کیا اسپیکر کی جگہ ڈپٹی اسپیکر یہ اختیار استعمال کرسکتا ہے،کیا ڈپٹی اسپیکر نے اختیار سے تجاوذ نہیں کیا،فاضل جج نے مزید ریمارکس دیئے کہ میری رائے میں ڈپٹی اسپیکر نے اختیار سے تجاوز کیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمار کس دئیے کہ اسپیکر ایوان کی کارروائی کو کنٹرول کرتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آرٹیکل 69کا دائرہ کیا ہے،جب تحریک عدم اعتمادپر ووٹنگ کا فیصلہ ہوا تو اب یا تو منظور ہوگی یا نامنظور، جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے،ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، بتایا جائے اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے کونسا دن دیا،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے ۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ بتایا جائے کہ رولنگ کیسے غیر قانونی ہے، اسپیکر کس مرحلے پر تحریک عدم اعتماد کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے، اسپیکر نے رولنگ میں آرٹیکل 5 کا سہارا لیا، کوئی عدالتی فیصلہ دیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، اسپیکر کس سٹیج پر تحریک عدم اعتماد کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے،ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں پارلیمانی کمیٹی کا بھی ذکر ہے،اپوزیشن نے جان بوجھ کر کمیٹی میں شرکت نہیں کی،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں سارا معاملہ رکھا گیا تھا،اس سوال کا جواب تمام اپوزیشن جماعتوں کے وکلاء نے دینا ہے،یہ بہت اہم معاملہ ہے۔
دوران سماعت جسٹس اعجا زالاحسن نے سوال اٹھایا کہ جب عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں کارروائی کے لیے منظور ہوجاتی ہے تو کیا اب صرف اس پر رائے شماری ہوگی ،اسپیکر کی رولنگ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے کیا ۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا سوال یہ ہے کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی یا طریقہ کار کی ۔
اس دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے عدالتی فیصلوں کے حوالے دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اسپیکر کا اقدام اگر بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی ہو تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دے کر آرٹیکل 95کو غیر موثر کردیا ۔
اس دوران فاروق نائک نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے اور تحریک عدم اعتماد کی کارروائی مکمل کرنے کی استدعا کی ۔جسں پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سب کو سن کر فیصلہ کریں گے۔ عدالت عظمی نے فاروق ایچ نائیک کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت منگل 12بجے تک ملتوی کردی۔