پارٹی ٹکٹس صرف انہیں دیں گےجو ملک کا سوچنے والا ہو گا ،عمران خان

4  اپریل‬‮  2022

ہماری جیسی کار کردگی کسی حکومت کی نہیں تھی ہم نے الیکزن کی تیاری شروع کردی ہے،ٹکٹس صرف اسے دیں گے جو ملک کا سوچنے والا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم پرامن احتجاج کیلئے نکلے، ثابت ہو گیا ہے پی ڈی ایم غیر ملکی قوت کے دبائو پر تحریک عدم اعتماد لائی ہے، ہماری حکومت جیسی کارکردگی ماضی کی کسی حکومت نے نہیں دکھائی، پی ڈی ایم کو ڈر تھا کہ ہم نے مدت پوری کی تو ان کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی، اپوزیشن اپنے خلاف کرپشن کیسز ختم کرانے کیلئے این آر او ٹو چاہتی ہے، 20، 25 کروڑ روپے سے ضمیر خریدے گئے ہیں، کیا ضمیر خرید کر حکومت بنانا جائز ہے؟، ضمیر بیچنے والوں کی سیاست ختم ہو جائے گی، ہم نے الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے، ٹکٹس صرف اسے دیں گے جو ملک کا سوچنے والا ہو گا، امیدواروں کے خود انٹرویو کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ” پروگرام میں عوام کی براہ راست فون کالز کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا، اپوزیشن تین سال سے کہہ رہی ہے حکومت ناکام ہو گئی، اپوزیشن کے کہنے پر نئے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے، الیکشن کا اعلان کر دیا، اپوزیشن سپریم کورٹ میں کیا کر رہی ہے؟یہ پچھلے ساڑھے تین سال سے این آر او مانگ رہے ہیں، پہلے مشرف نے انہیں این آر او دیا، 10 سال میں پھر ان کے خلاف مقدمات بن گئے، ان کے خلاف 90 فیصد کیسز تو سابق دور کے بنے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور اس کا بیٹا ضمانت پر ہیں، نواز شریف سزا یافتہ ہے،

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پہلے تو ہمیں الیکشن لڑنے کا تجربہ نہیں تھا، اب الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے، ٹکٹس کی تقسیم کے حوالہ سے محتاط رہیں گے اس پر بھی کام شروع ہو گیا ہے، آئندہ الیکشن میں الیکٹیبلز کی بجائے نظریہ کو ترجیح دیں گے اور سوچ سمجھ کر ٹکٹوں کی تقسیم کریں گے تاکہ پارلیمنٹ میں ایسے لوگ آئیں جو ملک کا سوچتے ہوں، بے شک الیکشن ہار جائوں لیکن ٹکٹ صرف ملک کا مفاد سوچنے والوں کو ہی دیں گے اور امیدواروں کے خود انٹرویو کروں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو بین الاقوامی قوتوں کی حمایت حاصل تھی ہمارے پاس ثبوت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں بھی ارکان کی خرید و فروخت کی اطلاعات آ رہی ہیں، مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک ہوٹل میں ارکان کو خرید کر لایا جا رہا ہے، ہمارے لوگ اس کے خلاف اس ہوٹل کے باہر احتجاج کریں گے، جمہوریت میں اس طرح قیمتیں لگائی جاتی ہیں نہ ہی بھیڑ بکریوں کی طرح ارکان کو بند کرکے رکھا جاتا ہے، یہ چھانگا مانگا کی جمہوریت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کریں گے تو ہی اچھے تعلقات قائم کئے جائیں گے، کیا یہ جمہوریت ہے؟، میں بھی اس کے خلاف احتجاج کیلئے نکلوں گا، آج ریڈ زون کے باہر نماز عشاء کے بعد پرامن احتجاج ہو گا جس میں عوام کو بھی شرکت کرنی چاہئے کیونکہ باہر کے ایجنڈے پر ہماری حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں معیشت کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، ریکارڈ برآمدات ہوئی ہیں، پورے برصغیر میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پاکستان میں پیدا ہوئے، کسانوں کے پاس بہت پیسہ آیا ہے، فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، تعمیرات کے شعبہ میں رکاوٹیں دور کیں جس سے روزگار کے مواقع بڑھے اور ٹیکس میں بھی اضافہ ہوا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات بھیجی ہیں لیکن ایک ماہ سے جو یہ سیاسی بحران پیدا ہوا ہے یہ معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ ڈر تھا کہ اگر ہماری حکومت نے مدت مکمل کی تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہو جائیں گی، خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت نے اپنی پہلی مدت مکمل کی تو وہاں کے عوام نے ہمیں دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب کیا، بحران کی وجہ سے روپے پر بوجھ بڑھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں قوم پر ہمیشہ امر بالمعروف کیلئے زور دیتا ہوں، انصاف کی رکھوالی کرنا قوم کا کام ہے، اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونے کا حکم دیا ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پیسے دے کر لوگوں کو خریدا جا رہا ہے، ارکان اپنے آپ کو بیچ رہے ہیں، غیر ملکی مداخلت اب واضح ہو چکی ہے اس لئے عوام کو اس کے خلاف احتجاج کیلئے نکلنا چاہئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب کی حکومت نے زبردست کام کیا ہے اور صحت کارڈ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، 400 ارب روپے اس کیلئے مختص کئے گئے ہیں، عثمان بزدار نے پنجاب میں ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھی پیسے دے کر لوگوں کو خرید سکتے تھے لیکن یہ چوری کا پیسہ ہوتا اس لئے میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر مجھ میں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہونا تھا، میرا ضمیر یہ کام کرنے کیلئے نہیں مانتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں پنجاب کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں نچلی سطح پر بہت ترقی ہوئی ہے، کسان کارڈ جیسے اقدامات تاریخی ہیں، خیبرپختونخوا میں ہماری کارکردگی کی وجہ سے عوام نے ہمیں بلدیاتی انتخابات ووٹ دیئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، میں دوستی کے حق میں ہوں اور جنگ کے خلاف ہوں، میں اس چیز کے خلاف ہوں کہ ایک ملک ہمیں حکم دے جبکہ ہم نے اس کیلئے جنگیں لڑی ہوں اور قربانیوں دی ہوں اور وہ شکریہ بھی ادا نہ کرے، ہم کسی کی غلامی نہیں کریں گے اور اپنے ملک کے مفاد کے خلاف کسی کی بات نہیں مانیں گے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نگران وزیر اعظم کیلئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام تجویز کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن شکست خوردہ ہے اور اب تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مشاورت سے جسٹس (ر) گلزار احمد  کا نام نگران وزیر اعظم کیلئے تجویز کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعطم نے کہا کہ اپوزیشن رہنما باڈی لینگویج سے شکست خوردہ نظر آرہے ہیں، یہ لوگ اب ہمارا مقابلہ نہیں کرسکیں گے، حکومت گرانے والے اب حکومت بحال کروانا چاہتے ہیں، یہ عوام کی عدالت میں جانے سے ڈر رہے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں






About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved