وزیراعظم عمران خان نے دوسرے سالانہ اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ کا افتتاح کر دیا

1  اپریل‬‮  2022

وزیراعظم عمران خان نے جمعے کے روز دوسرے سالانہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ 2022ءکا افتتاح کر دیا ہے۔

اسلام آباد – (اے پی پی): وزیراعظم نے اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں نیشنل سیکورٹی مشیران کے پہلے اور منفرد فورم کے انعقاد کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کا مقصد ایک عالمی درجے کے فورم کا قیام ہے جو دیگر مسلمہ بین الاقوامی فورموں کے خطوط پر سیکورٹی امور کے بارے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کر سکتا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ ’ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ2022“ میں عالمی دانشور، سکالرز، معروف عالمی میڈیا کے نمائندے، سینئر سول اور فوجی قیادت، عالمی قانون کے ماہرین، سول سوسائٹی سے وابستہ معروف شخصیات اور تھنک ٹینکس شرکت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کے پہلے دن نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر فورم کا عنوان ”بدلتے ہوئے ورلڈ آرڈر میں ایشیا کی سیکورٹی“ تھا۔ چھ ممالک سے تعلق رکھنے والے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بعدازاں پاکستان کے سابقہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز نے گفتگو کی۔ یہ مباحثہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معید یوسف کی زیرقیادت منعقد ہوا۔جن ممالک کے سیکورٹی ایڈوائزرز نے حصہ لیا ان میں چین، ازبکستان، کرغستان، قازقستان، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔

چین کے وزیر پبلک سیکورٹی ژا کیژہی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض ریاستوں کو قطعی سیکورٹی کی جستجو ترک کر دینی چاہئے اور اقوام متحدہ منشور پر مرکوز بین الاقوامی نظام پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، ازبکستان، کرغزستان، قزاخستان، سعودی عرباور قطر کے قومی سلامتی مشیران نے مشترکہ سیکورٹی چیلنجز پر انرجی پولیٹکس کے کردار اور بین الاقوامی تعاون پر توجہ مرکوز کی۔ دوسری اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کا موضوع ”بین الاقوامی تعاون کا ازسرنو تصور“ ہے، یہ حال ہی میں پاکستان کی جاری کردہ قومی سلامتی پالیسی سے منسلک ہے جو کہ معیشت، انسانی اور روایتی سیکورٹی کے درمیان ایک تعلق ہے جو پاکستان کی طویل المدتی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔

سیکورٹی ڈائیلاگ کے پہلے روز کی دوسری نشستوں میں ترقی اور رابطہ کاری کے ذریعے جیو اکنامک سے استفادہ کرنا اور انفارمیشن کے دور میں ڈس انفارمیشن کے تدارک اور سمت شناسی کا راستہ شامل تھا، ڈس انفارمیشن کی نشست میں ریاستوں اور افراد دونوں کیلئے چیلنجز اور مواقع کے جدید مواصلاتی ذرائع پر توجہ مرکوز کی گئی۔

تقریب میں وفاقی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز، سینئر سرکاری حکام، عسکری حکام، بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے ، تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طالب علم بھی شامل تھے۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں






About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved