چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالت عظمی کے معزز جج جسٹس مقبول بار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہونے والے جج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس مقبول بار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا ۔
اسلام آباد – (اے پی پی): فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال ،عدالت عظمی کے دیگر معزز ججز صاحبان، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان ،سینئر وکلاء اور عدالتی عملے شرکت کی ۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا آمریت کے دور میں جسٹس مقبول باقر نے پی سی ا و کے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں 21 ماہ کی معطلی برداشت کی، جسٹس مقبول باقر کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
چیف جسٹس نے کہا جسٹس مقبول باقر نے بہت سے اچھے فیصلے دئیے ،عدلیہ کے وقار پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا، معزز جج نے کبھی تکنیکی نکات کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا ،جسٹس مقبول باقر خراج تحسین کے مستحق ہیں ،عد لیہ کیلئے جسٹس مقبول باقر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ بعد ازاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ میں جسٹس مقبول باقر کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا گیا ۔
جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز ججز صاحبان ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز ججز صاحبان ، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان ، ایڈووکیٹ جنرلز ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سینئر وكلا نے شرکت کی۔ جسٹس مقبول باقر اور ان کی اہلیہ کو اس موقع پر ساتھی ججز کی طرف سے سوینئر، پھول اور شیلڈ بھی پیش کی گئی۔