سیاسی تنازعات کا عدالتی نہیں سیاسی بات چیت سے حل ہو سکتا ہے، چیف جسٹس

23  ستمبر‬‮  2022

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جمہوریت کا استحکام آئین اور قانون کی بالادستی سے وابستہ ہے۔ عدلیہ نے بلاتعصب قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا۔

بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے تمام مندوبین کو خوش آمدید کہا۔اُن کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے، کانفرنس سے پاکستان کے عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔سپریم کورٹ کے چیف نے مزید کہا کہ آئین پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے، عدلیہ نے بلاتعصب قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ آئین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، سید یوسف رضا گیلانی کے کیس میں آئین کی پاسداری کی گئی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی کہا کہ عدالت آئین کی کمانڈ پر کام کرتی ہے، عدالتیں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا بنیادی ادارہ ہیں، جن کا کام ریاست اور شہریوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس بھی قانون کی بالادستی کا اہم جزو ہے، عدلیہ نے معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کےلیے یادگار فیصلے کیے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ملکی اداروں میں تعیناتیاں شفاف اور میرٹ پر کرنے کو یقینی بنایا اور بنائیں گے، سپریم کورٹ نے اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ خالص سیاسی تنازعات کا عدالتی نہیں سیاسی بات چیت سے حل ہو سکتا ہے، عدالت نے نظریہ ضرورت کو دفن کرکے جمہوریت کے قیام میں سپریم کردار ادا کیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے تحریک عدم اعتماد میں اسمبلیوں کی تحلیل کو غیر قانونی قرار دیا، ملک نے پہلی بار ایک ٹرم کے دوران اقتدار کی پرامن منتقلی دیکھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، مقننہ اور ایگزیکٹو یقینی بنائے کہ ان کی کارکردگی سے ترقی ہو نا کہ تنزلی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ زیر التوا مقدمات کی تعداد کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، کیس مینجمنٹ کمیٹی کی کاوشوں سے پہلے بار کیسز کا بیک لاگ کم ہوا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں


About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved