ایک تہائی ملک سیلاب میں زیر آب، زندگی تبدیل ہو کر رہ گئی، وزیراعظم

23  ستمبر‬‮  2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تہائی پاکستان ڈوبا ہوا ہے، عالمی حدت کے تباہ کن اثرات نے پاکستان میں زندگی کو ہمیشہ کےلئے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، پاکستان کے عوام عالمی حدت کی قیمت ادا کررہے ہیں،قومی سلامتی کی تعریف اب بدل گئی ہے، قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کےلئے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا اور مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کےلئے مل کر بیٹھنا ہوگا ورنہ جنگوں کےلئے کوئی میدان باقی نہیں رہے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف نے قرآن پاک کی آیات سے کیا ۔ محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جب میں اپنے ملک پاکستان کا احوال سنانے کے لئے یہاں کھڑا ہوں لیکن میرا دل و دماغ اس وقت بھی میرے ملک میں ہے ،ہم جس صدمے سے گزر رہے ہیں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں موسمیاتی آفت سے آنے والی تباہی کے بارے میں دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے یہاں آیا ہوں جس سے میرے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 40 دن اور 40 راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں جن میں ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، بہت سے بیماری اور غذائی قلت کے خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا،370 پل تباہ ، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ،چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں۔ ، لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعہ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لئے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے،پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا، ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے، پاکستان کا اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، ہمیں جن مساہل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی جہاں زندگی ہمیشہ کیلئے  بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر 53 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے جو اسے کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کے دورے پر شکرگزار ہوں، سیکرٹری جنرل نے اپنی آنکھوں سے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ کا حصہ بھی ریسکیو اور ریلیف کے کاموں پر خرچ کر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین میں 70 ارب کی رقم تقسیم کی گئی۔

یاد رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1550 سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں


About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved