پیوٹن یوکرین آپریشن کی خود کمان کر رہے ہیں، امریکی انٹیلی جنس

23  ستمبر‬‮  2022

امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن خود میدان میں موجود جرنیلوں کو براہ راست ہدایات دیتے ہیں۔ یہ انتظامی حربہ جدید فوج میں انتہائی غیر معمولی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج اس بات پر منقسم ہے کہ اس ماہ میدان جنگ میں یوکرین کی غیر متوقع پیش قدمی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ امریکی انٹیلی جنس سے منسلک متعدد ذرائع کے مطابق ماسکو مشرق اور جنوب دونوں میں اپنے آپ کو دفاعی انداز میں تلاش کر رہا ہے۔

ان ذرائع نے اشارہ کیا کہ پوتین کی مداخلت قیادت کے ڈھانچے میں خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کو دوچار کیا۔

ان ذرائع میں سے ایک نےامریکی نشریاتی ادارے سی این این کو  بتایا کہ روسی افسران کی بات چیت کی مداخلت سے آپس میں دلائل اور ماسکو سے فیصلے کے ماخذ کے بارے میں گھر واپس آنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کی شکایات سامنے آئیں۔

باخبر انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ فوجی رہ نماؤں کے ساتھ فوجی حکمت عملی پر بڑے اختلافات ہیں جو اس بات پر متفق ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ دفاعی خطوط کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششوں کو کہاں مرکوز کیا جائے۔

روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شمال مشرق میں خارکیف کی طرف افواج کو دوبارہ تعینات کر رہا ہے، جہاں یوکرین نے سب سے زیادہ ڈرامائی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن امریکی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی افواج کا بڑا حصہ جنوب میں موجود ہے، جہاں یوکرین بھی موجود ہے اور آپریشن کر رہا ہے۔

پیوٹن نے بدھ کو جزوی طور پرفوج کے متحرک ہونے کا اعلان کیا جس میں تین لاکھ ریزرو تک کی کال اپ شامل ہونے کی امید ہے۔

روسی عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ کیا متحرک ہونے سے کوئی آپریشنل ٹیمیں میدان جنگ میں آئیں گی، یا نتائج کو تبدیل کیے بغیر صرف جنگ کو طول دے گی۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں


About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved