مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے خط نہ دکھایا تو 4 اپریل کو حکومت میں آ کر وہ خط اخبار میں شائع کردیں گے۔
آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بتایا جائے کہ کس نے پاکستان کو دھمکی دی ہے، کیا آج ہم اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ لوگ ہمیں خط لکھ کر دھمکیاں دے رہے ہیں؟
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وزیراعظم کو دھمکی اور خطرہ کسی بیرونی سازش سے نہیں، انہیں خطرہ پاکستان کے عوام سے ہے جو انہیں آئندہ چند روز میں گھر بھیج دیں گے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو بلائیں اور وہ خط پارلیمان کے سامنے رکھیں، اور بتائیں کہ کونسا وہ ملک ہے جس نے ہمارے وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط لکھا ہے۔ اگر یہ خط وزیراعظم دیکھ سکتے ہیں، ان کے وزراء دیکھ سکتے ہیں، سپریم کورٹ کے جج کو بھی دکھایا جا سکتا ہے تو قوم کے نمائندوں کو بھی وہ خط دکھانا چاہیے۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ وہ خط ملک کی عسکری قیادت نے دیکھا ہے یا نہیں، اگر وہ خط عسکری قیادت نے دیکھا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ اس کو قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا جائے اور اس معاملے پر بات کی جائے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اب خط نہیں دکھائے گی، تو 4 اپریل کو خط دیکھیں گے اور اسے اخبار میں چھاپ دیں گے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس معاملے پر معافی مانگیں یا ثبوت پیش کریں۔
یاد رہے کہ 27 مارچ کے جلسے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ہمیں غیر ملکی طاقتوں نے تحریری دھمکی دی ہے، تحریک عدم اعتماد میں ہمارے اپنے لوگ جانے انجانے میں غیر ملکی ایجنڈے کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔