ایم کیو ایم پاکستان نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان آج شام 4 بجے کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء فیصل سبزواری نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان معاہدے نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے، پیپلز پارٹی کی سی ای سی اور ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی سے مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد اس کی تفصیلات سے شام 4 بجے باضابطہ میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
متحدہ اپوزیشن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان معاہدہ نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے
پیپلز پارٹی کی سی ای سی، ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد اس کی تفصیلات سے کل شام۴ بجے باضابطہ میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
@MQMPKOfficial @PPP_Org @pmln_org— Faisal Subzwari (@faisalsubzwari) March 29, 2022
یاد رہے کہ اس سے قبل متحدہ اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت نے ایم کیو ایم کے وفد سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی۔ متحدہ اپوزیشن کے وفد میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سمیت دیگر قائدین موجود تھے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے وفد میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، وسیم اختر، امین الحق، فیصل سبزواری و دیگر شامل تھے۔
اس سے قبل یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ایم کیو ایم کے متحدہ اپوزیشن سے معاملات طے پاگئے ہیں، اور انہیں تحریری معاہدے کی شکل دے دی گئی ہے، ایم کیو ایم قیادت جلد متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرے گی۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے کہا گیا کہ مجوزہ معاہدے کی رابطہ کمیٹی سے توثیق کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کی حمایت کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ایوان میں اکثریت نہیں رہے گی۔ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد حکومت کو 164 جبکہ متحدہ اپوزیشن کو 177 اراکین کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔