حکومت کی جانب سے سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجہ میں ملک میں روزگاراورتربیت کے مواقع میں نمایاں بہتری آئی ہے، معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی بارسماجی تحفظ کے پروگراموں پرخصوصی توجہ دی گئی اوراس حوالہ سے مختص فنڈز اورسبسڈی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد – (اے پی پی): وزارت خزانہ کے مطابق سماجی شعبہ کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اورپاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہے۔ غربت کے خاتمے اورخواتین کو تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرکے پائیدار ترقی یقینی بنانے کے لیے قومی صنفی پالیسی فریم ورک شروع کیا گیا ہے۔
رواں سال رمضان المبارک میں شہریوں کورعایتی نرخوں پراشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے حکومت نے رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے جس پر 8.2 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت حکومت نے 407 ارب روپے کی سبسڈی مقررکی ہے جس کے ذریعے آئندہ دوسالوں میں نوجوانوں،کسانوں، اورکم آمدنی رکھنے والے افراد کو کم لاگتی مکانات کیلئے آسان قرضے فراہم کئے جائیں گے۔
احساس کفالت پروگرام کے تحت حکومت نے ہرچھ ماہ بعد ملک بھر کی 80 لاکھ غریب خواتین کیلئےوظیفہ کی حد 12000 سے بڑھا کر 14000 روپے کردی ہے۔ حکومت نے گریجوایٹ انٹرن شپ پروگرام کاآغازکیاہے جس کے تحت ماہانہ 30 ہزار روپے کا وظیفہ دیا جائیگا، اسی طرح 26 لاکھ طلبا وطالبات کووظائف دئیے جارہے ہیں جس پر38 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔
کم آمدنی والے طبقات پر افراط زر کے اثرات کو کم کرنے کیلئے حکومت نے احساس رعایت راشن پروگرام کا آغاز کیا ہے، اس پروگرام کے تحت کریانہ ریٹیل دکانوں اوریوٹیلیٹی سٹورز پر دوکروڑ خاندانوں کوکوکنگ آئل/ گھی، آٹا، اوردالوں کی خریداری پر30 فیصد تک رعایت دی جارہی ہے، اس پروگرام کے تحت آٹا پر22 روپے فی کلوگرام، دالوں پر55 روپے فی کلوگرام اورگھی پر105 روپے کی کلوگرام کی سبسڈی دی جائے گی ۔تخفیف غربت فنڈ(پی پی اے ایف) نے اپنے 24 شراکت داراداروں کے ذریعے فروری 2022ء کے دوران 1.43 ارب روپے مالیت کے 38,402 بلاسود قرضے جاری کئے ہیں۔
جولائی 2019ء سے لیکر 28 فروری 2022ء تک مجموعی طورپر 1,760,911 سود سے پاک قرضے دئیے گئے جن کی مجموعی لاگت 62.87 ارب روپے ہے ۔ کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم کے تحت حکومت نے جنوری 2022ء تک نوجوانوں کو کاروبار کے لیے 33,860 ملین روپے فراہم کئے ہیں ۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے فروری کے دوران بیرون ممالک ملازمت کیلئے 66011 افراد کو رجسٹر کیا ہے۔
کورونا وائرس کی عالمگیروبا سے نمٹنے کیلئے حکومت نے منفرد حکمت عملی اپنائی جس کے تحت مکمل لاک ڈاؤن کے بغیرسمارٹ لاک ڈاؤن کاتصورپیش کیاگیا اوراس پرعمل درآمدہوا جس کی بین الاقوامی سطح پرتعریف کی گئی اورکئی ممالک نے اس کی پیروی کی۔ حکومت نے شہریوں کووبا سے بچانے کیلئے ویکسین کی فراہمی پرتوجہ مرکوزکی جس کے نتیجہ میں کورونا مثبت کیسوں کی شرح ایک فیصد تک گرگئی۔24 مارچ 2022ء تک مجموعی طورپرملک کی آدھی آبادی کوویکسین فراہم کی گئی ہے۔