خیبر پختونخوا (کے پی) بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں 18 اضلاع میں پولنگ جمعرات کو ہونی ہے ۔ اس سلسلے میں سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مام انتخابی مواد، بیلٹ پیپرز، پولنگ بیگز اور پولنگ اسٹاف کو بدھ کو اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنز پر مکمل سکیورٹی کے ساتھ پہنچا دیا گیا۔ ریٹرننگ افسران کے دفتر سے پولنگ مٹیریل کی تقسیم ہو رہی ہے، اسپشل سیکرٹری، سیکرٹری الیکشن کمیش اور چیف الیکشن کمشنر تمام عمل کی نگرانی میں شامل ہیں۔
دوسرے مرحلے کے زیادہ تر اضلاع میں پولنگ اسٹیشنز پہاڑی علاقوں میں اور دور دراز ہیں۔ پولنگ مٹیریل اور پولنگ اسٹاف کو پولنگ اسٹیشنز پر پہنچانے کا عمل بدھ کو صبح شروع کر دیا گیا تھا۔
18 اضلاع کی کُل 65 تحصیلوں میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 6176 پولنگ اسٹیشنز اور 16509 پولنگ بوتھ بنانے گئے ہیں۔
جن اضلاع میں بلدیاتی انتخاب کیلئے پولنگ ہوگی ان میں اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کوہستان بالا، کوہستان زیریں، کولائی پالس، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، دیر بالا، دیر زیریں، چترال بالا اور چترال زیریں شامل ہیں۔
ان اضلاع میں یونین کونسلز کی تعداد ایک ہزار 830 ہے۔ کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 80 لاکھ 57 ہزار 474 جبکہ اس میں مرد ووٹرز 44 لاکھ 89 ہزار 771 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 35 لاکھ 67 ہزار 703 ہے۔
ایبٹ آباداور سوات میں سٹی میئرکی نشست پربڑے معرکے ہوں گے۔ بلدیاتی الیکشن میں 29 ہزار 3 سو 38 امیدوار میدان میں ہیں۔
تحصیل میئر اور چیئرمین کی نشستوں کیلئے 651 امیدوار ہیں، ولیج، نیبرہڈ میں جنرل نشستوں پر 13 ہزار 331 افراد انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
خواتین کی نشستوں پر 3 ہزار 201 امیدوار میدان میں ہیں، مزدور،کسان کی نشستوں پر 6602، یوتھ پر 5446 امیدوار اور اقلیتی نشستوں پر 107 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہے۔
جبکہ انتخابات میں تاخیر سے اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو انتہائی تنقید کا سامنا تھا، جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے جہاں اس فیصلے کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا، وہیں انہوں نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف پر الزام عائد کیا تھاکہ عدالت میں رِٹ پٹیشن دائر کروانے والے پی ٹی آئی کے اپنے ہی لوگ تھے۔