وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کے اعلان کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی نئے عہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے۔
پرویز الٰہی نے مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے اپنے خلاف امیدوار کھڑا کرنے کی صورت میں حمایت کے لیے پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین سے رابطہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے حکمراں جماعت کے بھی کچھ منحرف اراکین سے بات کر کے انہیں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے پر اعتماد طریقے سے دعویٰ کیا کہ ’وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد سےبچ جائیں گے اور نیا وزیراعلیٰ پنجاب بھی پی ٹی آئی اتحاد کا ہوگا، ہم دونوں اہداف پورے کرلیں گے۔چودھری پرویزالٰہی نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی سے ملاقات کی، اس کے علاوہ انہوں نے خواتین ارکان پنجاب اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ بھی رکھا۔رپورٹس کے مطابق عشائیہ میں ثانیہ کامران، مسرت جمشید چیمہ، سیمابیہ طاہرکے علاوہ راجہ بشارت ،سمیرا احمد اور دیگر ارکان اسمبلی بھی عشائیہ میں شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران اراکین نے پرویز الہٰی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے16 ایم پی اے پرویزالٰہی کیساتھ چلیں گے اور ہمارا پورا گروپ چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دے گا۔مسلم لیگ ن کے ایم پی ایز مولانا غیاث الدین، فیصل نیازی، اشرف انصاری، یونس انصاری شریک تھے جب کہ ایم این اے حسین الہٰی، حافظ عمار یاسر اور پی ٹی آئی کے چیف وہپ عباس علی شاہ بھی موجود تھے۔