وزیراعظم عمران خان نے قوم سے براہ راست خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے امریکا کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رکے اور کہا کہ نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے۔
مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ابھی ہمیں 8 مارچ کو یا اس سے پہلے 7 مارچ کو ہمیں امریکا نے نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سےمیسج آتی ہے، میں یہ اسی لیے آپ کے سامنے میسج کی بات کرنا چاہ رہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسی آزاد ملک اور ہماری قوم کے خلاف ہے، اس میسج میں لکھا ہے کہ یہ جو عدم اعتماد جس کا ان کو پہلے سے پتا چل گیا کہ پاکستان میں عدم اعتماد آرہی ہے، اس کا مطلب یہ جو ہو رہا تھا ان کے پہلے سے ہی باہر کے لوگوں سے رابطے تھے۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ یہ آفیشل ڈاکومنٹ ہے جو ہمارے سفیر نوٹس لے رہے تھے،جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان رہتا ہے وزیراعظم تو ہمارے آپ کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے اور آپ کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میرا اپنی قوم سے سوال ہے کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے، ہمیں کوئی باہر کا ملک اور کوئی وجہ بھی نہیں بتا رہا، بس ایک چیز بتا دی کہ عمران خان نے اکیلا روس جانے کا فیصلہ کیا۔