ہماری کارکردگی کی ٹرانسپیرنسی ،ورلڈ اکنامک فورم اور پلڈاٹ سمیت دیگر اداروں نے تعریف کی ہے، چیئرمین نیب

6  اپریل‬‮  2022

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو بدعنوانی کےمضراثرات سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی کی پالیسی کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل،ورلڈ اکنامک فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور دیگرمعتبراداروں نے سراہا ہے۔

اسلام آباد – (اے پی پی): نیب کی آگاہی پالیسی سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے مقدمات کی موثر تحقیقات کے لئےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام متعارف کرایا جس کی بدولت انوسٹی گیشن افسران کے تجربہ اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتےہوے نہ صرف شکایات کی تصدیق، انکوائریاں اور انویسٹی گیشن مکمل کی گئیں بلکہ 179 میگا کرپشن کیسز میں سے 66 میگاکرپشن مقدمات کو معززاحتساب عدالتوں نے منطقی انجام تک پہنچایا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب، نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور تدارک کے اختیارات رکھتا ہے، نیب کی لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے، نیب نے مختلف این جی اوز، میڈیا، سول سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر عوام بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی ہے۔

نیب کی آگاہی اور تدارک کی کوششوں کو نیب کے میڈیا ونگ نے موثر انداز میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا ہے جس کو معاشرہ کے تمام طبقات نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔جن کے شاندار نتائج سامنے آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ 2017 سے دسمبر 2021 تک گزشتہ 4 سال سے زائد عرصے کے دوران نیب کی بھرپور پراسیکیوشن کی وجہ سے احتساب عدالتوں نے 1405 ملزمان کو سزا سنائی جبکہ نیب نے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 584 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔جوکہ نیب کی انسداد بدعنوانی کے کسی بھی ادارے کے مقابلے میں بہترین کارکردگی ہے۔

نیب کی جانب سے برآمد کی گئی رقوم ہاؤسنگ سوسائٹیزکے ہزاروں متاثرین اور مختلف محکموں کو واپس کی گئیں انہوں نے کہاکہ نیب پاکستان سے کرپشن کے مکمل خاتمہ کیلئے احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے اور اس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ، وائٹ کالر میگا کرپشن کیسز، ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں، فراڈ/غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز/کوآپریٹو ہاو سنگ سوسائٹیز کے ذریعے عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ آج نیب ایک متحرک اور باوقار ادارہ بن چکا ہے۔ ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے تقریباً 1237 ریفرنسز زیر سماعت ہیں اور ان کی کل مالیت تقریباً 1335 ارب روپے ہے۔

پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم اور گلوبل پیس کینیڈا جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے جبکہ گیلپ اور گیلانی سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جو کہ نیب کی بہترین کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی کردار سازی سے متعلق انجمنوں کے قیام کے نتائج شاندار رہے ہیں۔ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں جن کے تسلسل سے اجلاس ہوتے ہیں اور وہ یونیورسٹی اور کالجوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم اب یہ جان چکی ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی ماں ہے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے کرپشن فری پاکستان کو عملی تعبیر دی جا سکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں کرپشن فری پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہیں جو ہماری منزل ہے۔

چیئرمین نیب نے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ نیب کا دورہ کرنے والے تمام افراد کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نیب اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے ۔

مزید برآں پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے۔ نیب نے بدعنوانی سے نمٹنے میں تعاون بڑھانے اور پاکستان میں اس وقت سی پیک کے جاری منصوبوں کی نگرانی کے لیے چین کے ساتھ ایک منفرد مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں جو نیب کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں






About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved