اسپیکر کی رولنگ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، چیف جسٹس

7  اپریل‬‮  2022

چیف جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی،ووٹنگ ہونےدی جاتی تومعلوم ہوتا وزیراعظم کون ہے؟۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندو خیل شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ووٹنگ ہونےدی جاتی تومعلوم ہوتا وزیراعظم کون ہے؟.اگر کسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے تو حکومت الیکشن اناؤنس کر دے۔

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ کل ٹی وی پربھی دکھایا گیاکہ پنجاب اسمبلی میں خاردار تاریں لگا دیں۔جسٹس مظہر عالم نے استفسار کیا کہ کہا کہ کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں پنجاب میں آپ لوگ؟

مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کہاں جائیں جب اسمبلی کو تالے لگا دیے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ دیکھے گی، خود فریقین آپس میں بیٹھ کرمعاملہ حل کریں، ہم صرف قومی اسمبلی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کی وکیل امتیاز صدیقی کے بعد نعیم بخاری نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ میں بیرسٹر علی ظفر کے دلائل بھی لوں گا اور مزید اپنے دلائل بھی دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ سوال ہوا تھا پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا، بتانا چاہتا ہوں کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جا سکتا ہے۔

جسٹس مظہر عالم نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے پاس رولنگ کا مواد کیا تھا، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے گزارشات کو فریز کرنے دیں، عدالت کے سوالات کا جواب دوں گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ نعیم بخاری نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر اسپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا تو کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زیر التواء تحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے، اب نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا اور اب معاملے عوام کے پاس ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے۔

سب سے زیادہ مقبول خبریں






About Us   |    Contact Us   |    Privacy Policy

Copyright © 2021 Sabir Shakir. All Rights Reserved