وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم 15 اگست سے یہی کہہ رہے ہیں کہ طالبان آپ کو پسند ہوں یا نہ ہوں، لیکن آپ کو انسانیت کیلئے کھڑے ہونا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بحران سے بچانے کا آسان حل یہ ہے کہ ان کے منجمد اثاثے بحال کردئیے جائیں۔
وزارت خارجہ میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں جو ہمارا مقصد تھا وہ پورا ہوا ہے، تمام مسلم ملک اور اقوام متحدہ ہمارے مقصد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے انسانی بحران ختم کرنے کا آسان حل یہ ہے کہ ان کے اثاثے بحال کر دئیے جائیں، اور ان کے بینکاری نظام میں رقم کی لین دین شروع کر دیا جائے۔
ملکی مسائل کے ذمہ دار ہم خود ہیں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کی اس تصویر کو بھی اپنی زندگی میں دیکھا ہے، جب پاکستان کا وزیر اعظم امریکہ جاتا تھا تو امریکی صدر اس کا ایئرپورٹ پر استقبال کرتا تھا، اس کے بعد ہم نے اس سے برے وقت بھی دیکھے۔انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی کبھی بھی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی، اس میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، ہمارے ملک میں آنے والی پریشانیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہمیں کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے، ہم نے خود کو استعمال ہونے دیا اورغیر ملکی امداد کیلئے ملکی ساکھ کو قربان کردیا، ہم نے صرف پیسے کیلئے عوامی مفاد کے خلاف خارجہ پالیسیاں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کیلئے ایک خود ساختہ زخم تھا، کیونکہ میں اس وقت فیصلہ سازوں کے قریب تھا، مجھے پتا ہے کہ اس وقت کیا خدشات تھے اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ خدشات پاکستان کے عوام سے متعلق نہیں تھے، اس وقت مقصد ڈالرز کا حصول تھا۔
"ماضی میں عوامی مفاد کے برعکس خارجہ پالیسیاں بنائی گئیں،"
وزیراعظم عمران خان کا وزارتِ خارجہ میں تقریب سے خطاب pic.twitter.com/zMSjzbpvsa
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) December 21, 2021
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلوں کے اثرات ہوتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے کہ کینسر کا علاج ڈسپرین سے شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اب دنیا کے سامنے پاکستان کی تصویر بہت مثبت ہے۔
وزیراعظم نے مزیدکہا کہ ہمیں ملک میں صرف نظام ٹھیک کرنا ہے، اور میرٹ کو اوپر لانا ہے، سب سے اہم بات قانون کی بالادستی ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، کیونکہ وہاں اشرافیہ قابض ہوجاتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو سب سے پہلے میرٹ ختم ہوجاتا ہے، مافیاز کنٹرول کر لیتے ہیں اور ملک آگے نہیں جاسکتا۔