وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ مسلم لیگ (ق) کو دینے کی وجہ بتا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق شرکاء کو خفیہ خط کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس کو خط دکھانے کا مقصد اس کی کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے، کیونکہ خط میں دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خط چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کردی ہے۔ خارجہ پالیسی کے پیش نظر خط زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ 7 مارچ کو ہمیں خط موصول ہوا، جس کا براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے، جیسے ہی خط ملا، تحریک عدم اعتماد پیش ہوگئی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے عالمی طاقتیں حکومتوں پر اثرانداز ہوتی آئی ہیں، لیکن میں نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔
اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان بھی واپس آجائیں گے، اور ایک دو روز میں تمام تر صورتحال واضح ہوجائے گی۔
چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ (ق) لیگ کو وزارت اعلیٰ دینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، کیونکہ بڑے مقصد کے حصول کیلئے مشکل اور بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کچھ لوگ ذاتی مفاد کیلئے ضمیر فروش بن جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا تھا، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔