صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کو بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
بدھ کے روز سپارکو کے زیراہتمام ا یشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن (اے پی ایس سی او)، اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (آئی سی ای ایس سی او) اور انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے تیسری بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے میں سپارکو کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سپارکو ایک پروگرامیٹک خلائی سائنس، ٹیکنالوجی اور ایپلی کیشنز کے پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کا حتمی مقصد ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی اور ترقی کے لیے اس ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا ہے۔
"پاکستان کو اپنے سیٹلائٹس بنانے ہیں اور خودانحصاری کی منازل طے کرنا ہیں"
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ”بین الاقوامی اسپیس کانفرنس“ سے خطاب
مکمل خطاب سنیے 👇https://t.co/Y3QQE9spya pic.twitter.com/sKFx6eYtus
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) March 30, 2022
صدر مملکت نے بیرونی خلا کے پرامن استعمال کی اہمیت کو بھی دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہمارے شروع کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کو بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک غیر ملکی شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔
اس سے قبل سپارکو کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر ندیم نے اپنے اختتامی کلمات میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور غیر ملکی شرکاءکو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ تین روزہ کانفرنس کے تکنیکی سیشنوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کے چیلنجوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے خلائی اور جغرافیائی معلومات پر مبنی ایپلی کیشنز کے مختلف پہلوئوں پر زور دیا گیا،
کانفرنس میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر عالمی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی، تکنیکی انفراسٹرکچر اور مالیاتی وسائل کے حوالے سے صلاحیت سازی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔28 سے 30 مارچ تک جاری رہنے والی کانفرنس میں شرکاءنے خلا کے شعبے سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی۔
شرکاءنے کانفرنس کے دوران خلائی ایپلی کیشنز، خلائی ٹیکنالوجیز اور خلائی قانون، پالیسی اور ضوابط پر تحقیقی مقالے پیش کئے۔