الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ادارہ عام انتخابات کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے پرعزم ہے، دیگر ادارے اور شخصیات بھی تنقید برائے تنقید کی بجائے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔
اسلام آباد – (اے پی پی): ترجمان الیکشن کمیشن نے میڈیا پر نشر ہونے والے بعض سابق وزراء وعہدیداران بشمول شاہ محمود قریشی، شیر ی مزاری، فواد چوہدری اور فرخ حبیب کے بیانات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی تمام آئینی اور قانونی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور آئین وقانون کے مطابق عام انتخابات کرانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اورہمیشہ سے اپنے تمام آئینی امور انجام دیتا آر ہا ہے ۔
سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور یہاں کی سیٹیں12 سے کم کرکے 6سیٹیں کرنےا ور ان کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقے 272سے کم ہوکر 266 رہ گئے ہیں اس صورت میں نئی حلقہ بندی کرنا لازم ہوگیا ۔
چونکہ مردم شماری 2017ء پرویژنل تھی اور نوٹیفائیڈ نہ تھی لہذا حلقہ بندی شروع نہیں ہوسکتی تھی ۔ لہذاالیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو 7مئی 2020ء کو چیف الیکشن کمشنر کے دستخط سے ڈی او لیٹر لکھا ۔پھر اس کے بعد منسٹری آف پارلیمانی افیئرز اور منسٹری آف لاء سمیت سیکرٹری سینیٹ ، سیکرٹری قومی اسمبلی اور ادارہ شماریات سمیت دیگر اداروں کو 2020ء میں متعدد خطوط لکھے گئے اور بار بار یادہانی کرائی گئی کہ حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور جب تک مردم شماری کو نوٹیفائی نہ کیا جائے توحلقہ بندی شرو ع نہیں ہوسکتی ۔
الیکشن کمیشن کی ان کاوشوں کےبعد مردم شماری 6مئی 2021ء کو نوٹیفائی ہوئی اور کمیشن نے حلقہ بندی کا شیڈول جاری کیا اور کام شروع کر دیا ۔
مگر پھر حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری ہو گی لہذا حلقہ بندی کے کام کو روک دیا گیا ۔
اس کے بعد الیکشن کمیشن نے دوبارہ حکومت کو خطوط باتواریخ 30ستمبر 2021ء 21جنوری 2022ء کو لکھے کہ نئی مردم شماری جلد ازجلد مکمل کی جائے تاکہ حلقہ بندی کا کام شروع کیا جاسکے لیکن ڈیجیٹل مردم شماری تاحال مکمل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندی کاکام مکمل نہیں کرسکا ۔
تاہم الیکشن کمیشن اپنی آئینی او رقانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔ مگر دیگر اداروں اور شخصیات کو بھی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنی چاہیں اور بے جا تنقید سے گریز کرنا چاہئے ۔