چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندو خیل شامل ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا اور ملک کو استحکام کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، میرا مدعا نئے انتخابات کا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے، عدالت نے آئین کو مف نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں اور ہم نتائج میں نہیں جائیں گے۔