سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملکی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آج وفاقی کابینہ اور پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بڑے فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے آپشن پر غور کرے گی۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم قومی اسمبلی کیساتھ تمام صوبائی اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ تاہم تمام فیصلوں کا اعلان وزیراعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب میں کریں گے۔
موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا اسمبلی کے متعلق فیصلے پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں، جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دو تہائی اکثریت کے مضبوط ستون پر کھڑی ہے۔
صوبائی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخواشاہ فرمان نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آج وزیراعظم عمران خان سے بات کروں گا، تاحال اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔
ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان وزیراعظم کے قوم سے خطاب کا انتظار کررہے ہیں، جس کے بعد ان کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ تاہم یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے آج دو اہم اجلاسوں میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا، کیونکہ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد تمام صوبوں کے گورنرز بھی تبدیل کئے جانے کا قوی امکان ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے کو بھی کالعدم کرتے ہوئے وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے۔
فیصلے میں اسپیکر کو ہدایت کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل کو بلایا جائے، اور فوری طور پر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔