وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آڈیو ٹیپ ڈرامہ ہے، یہ سب کچھ کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ لندن والے فلیٹس کیسے خریدے۔
اسلام آباد میں کامیاب نوجوان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ آج کل ٹیپس کی بڑی بات ہو رہی ہے، ٹیپس نکل رہی ہیں، ججوں کے نام آرہے ہیں، میں نے تو 25 سال پہلے کہہ دیا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیپس سارا ڈراما ہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کا سربراہ چوری کرنا شروع کر دے، اور چوری کئے ہوئے پیسے کو ملک سے باہر بھیجنا شروع کردے، قومیں تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا۔
“قومیں تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا،”
کامیاب جوان کنونشن،
وزیرِ اعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب pic.twitter.com/WFlEpNdNMG— Prime Minister’s Office, Pakistan (@PakPMO) November 24, 2021
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 2016ء میں پاناما کیس آیا، دنیا میں جنہوں نے اپنا پیسہ چھپا کر آف شور اکاؤنٹس بنارکھے تھے، ان کے نام پانامہ میں آئے، ان میں سے ایک نام لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس کا بھی آیا، جن کی مالکہ مریم صفدر تھیں۔ بات یہاں سے شروع ہوئی ، کیس سپریم کورٹ گیا، جے آئی ٹی بنی، نوازشریف اور مریم پر جرم ثاببت ہوا، اور نا کو سزا ہو گئی۔ انہوں نے منی ٹریل دینے کی بجائےعدالتوں اور فوج کو برا بھلا اور مجھے کیوں نکالا کہنا شروع کردیا۔ یہ سب کچھ کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ جس سے 4 فلیٹ خریدے، وہ پیسہ کہاں سے آیا؟ یہ مجھے بھی ظالم کہتے ہیں، میرے اوپر کیس کردیا، میرا لندن میں فلیٹ تھا، میں نے سپریم کورٹ میں 40 سال پرانے معاہدے کے کاغذات دئیے ، حالانکہ میں تو عہدیدار بھی نہیں تھا، میں صرف ایک کھلاڑی تھا، لیکن عدالت نے جو مانگا وہ میں نے دیا، جس کیلئے مجھے 10 مہینے لگے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے اسمبلی میں جھوٹ بولا، پھر قطری خط آگیا، وہ بھی دھوکہ نکلا، پھرکیلیبری فونٹ آگئی، وہ بھی فراڈ نکلی، اور ابھی تک وہ ایک کاغذ نہیں دے سکے کہ لندن کے فلیٹ کن پیسوں سے لئے گئے کیونکہ چوری کا پیسہ تھا۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں معزز ججوں کیساتھ مفرور مجرم کی بھی تقریر کرائی گئی
عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاہور میں ایک تقریب ہوتی ہے، وہاں سپریم کورٹ کے ججز کو بلایا جاتا ہے اور وہاں جس کو سپریم کورٹ نے سزا دی ہے، جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، وہ تقریر کر رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ قوم کبھی پیسہ چوری سے ختم نہیں ہوتی، لیکن قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا، جب ایک قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو قوم ختم ہوجاتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب تک ہم اپنا اخلاقی معیار اوپر نہیں اٹھائیں گے، ہم ادھر نہیں پہنچ سکتے جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے، اس لیے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے تاکہ نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور ان کی سیرت زندگیوں میں لاگو کریں۔
“نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ سے سیکھنے کے لیے رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی قائم کی،”
وزیرِ اعظم عمران خان کا کامیاب جوان کنونشن سے خطاب pic.twitter.com/J14WfQnlDc
— Prime Minister’s Office, Pakistan (@PakPMO) November 24, 2021